31%
پاکستانی بالغوں کو ذیابیطس یا قبل از ذیابیطس ہے

شوگر اور سماج — 31% حقیقت

پاکستان دنیا میں سب سے زیادہ ذیابیطس کی شرح رکھنے والے ممالک میں سے ایک ہے۔ گلائسیمک انڈیکس اور چھپی ہوئی شوگر کو سمجھنا روک تھام کا پہلا قدم ہے۔

گلائسیمک انڈیکس کیا ہے؟

گلائسیمک انڈیکس (GI) ناپتا ہے کہ کوئی غذا کتنی جلدی خون میں شوگر بڑھاتی ہے۔ زیادہ GI والی غذائیں (جیسے سفید چاول، GI: 98) تیزی سے شوگر بڑھاتی ہیں، جبکہ کم GI والی غذائیں (جیسے دال، GI: 29) آہستہ آہستہ شوگر خارج کرتی ہیں۔

پاکستانی غذا میں چھپی ہوئی شوگر

سفید چاول، سالن اور میٹھی چائے کے عام پاکستانی کھانے میں 15 سے زیادہ چائے کے چمچ شوگر ہو سکتی ہے — جو WHO کی روزانہ 6 چائے کے چمچ کی سفارش سے بہت زیادہ ہے۔

روک تھام کے لیے آسان تبدیلیاں

سفید چاول کی جگہ باسمتی استعمال کریں (GI 98 سے 54 ہو جاتا ہے)۔ نان کی جگہ آٹے کی روٹی کھائیں۔ ہر کھانے میں دال شامل کریں۔ چائے میں چینی آدھی کر دیں۔

چھوٹی غذائی تبدیلیاں ذیابیطس کا خطرہ 58% تک کم کر سکتی ہیں۔